ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کھرگون میں اقلیتوں کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلانا فاشزم ہے

کھرگون میں اقلیتوں کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلانا فاشزم ہے

Wed, 13 Apr 2022 13:02:28    S.O. News Service

جمعیۃ علماء ہند کا  امیت شاہ کے نام خط، کہا: اگر کوئی خاطی ہو تو اسے ضرور سزا دی جائے لیکن جب تک جرم ثابت نہ ہو، اسے بے قصور ہی سمجھا جانا چاہئے

 نئی دہلی، 13؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) رام نومی تہوار کے موقع پر ملک کی کئی ریاستوں بالخصوص مدھیہ پردیش کے کھرگون میں ہونےوالے فرقہ وارانہ تشدد اور اس کے بعد حکومت وانتظامیہ کی طرف سے ملزمین کے مکانوں اور دکانوں کے انہدام پر جمعیۃ علماء ہند  نے اضطراب کا اظہار کیا ہے اور اس کارروائی کو فاشزم پر مبنی قرار دیا ہے۔جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے  اس پر اپنی تشویش کااظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ کو خط لکھا ہے۔ یہ اطلاع جمعیۃ کی جاری کردہ ریلیز میں دی گئی ہے۔

 مولانا مدنی نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فسادیوں نے ملک میں عادت بنالی ہے کہ وہ مسلم محلوں میں جاکر منافرت پر مبنی نعرے لگا تے ہیں، وہاں انتہائی اشتعال انگیز حرکتیں کرتے ہیں اور مسجدوں اور عبادت گاہوں کی توہین کرتے ہیں، انھیں اس سلسلے میں لاء اینڈآرڈر کی طرف سے کوئی رکاوٹ اور دقت بھی نہیں ہے۔

  مولانا مدنی نے اس سلسلے میں ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر متوجہ کیا ہے کہ وہ ایسے بے قابو ہورہے حالات پر قد غن لگائیں اور ملک کو انارکی کی راہ پر لگاتار چلنے سے روکیں۔ انہوں   نے خاص طور سے مدھیہ پردیش کے کھرگون میں ہونے والے افسوس ناک سانحہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ یہاں اقلیتی طبقے کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سماج دشمن عناصر کی جانب سے متعدد گھروں اور مذہبی مقامات کو نذر آتش کیا گیا اور لوٹ مار کی گئی۔ یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے کہ تشدد کے پھیلنے کے بعد اب مقامی انتظامیہ اقلیتی برادری ہی کو ہراساں کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ نشان زد طریقے سے مسلمانوں کی املاک اور ان کی رہائش گاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔

  مولانا مدنی نے سوال کیا کہ ایسا کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے؟ جب کہ آئین ہندکی بنیادی دفعہ21کے تحت، ہر ملزم کو منصفانہ ٹرائل، ضمانت، فوجداری وکیل کی خدمات،مفت قانونی امداد حاصل کرنے کا حق ہے، نیز یہ ہندوستان میں عدالتوں کے ذریعہ اختیار کردہ عمومی قانونی اصول ہے کہ جب تک کوئی ملزم، مجرم ثابت نہ ہو جائے، اس کے ساتھ بے قصوروں کی طرح ہی معاملہ کیا جائے گا لیکن اب مدھیہ پردیش حکومت مکانات کو گرا کر آئین ہند کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور فاشزم پر مبنی اپنے اس عمل کا بے شرمی سے دفاع کررہی ہے۔

  مولانا مدنی نے صاف کیا کہ فسادی کا تعلق خواہ کسی بھی قوم سے ہو،وہ اس سے بیزاری کا اظہارکرتےہیں، لیکن اس کے ساتھ ملک کے قانون کے مطابق ہی ایکشن ہونا چاہئے تاکہ لاء  اینڈ آرڈر پر لوگوں کا اعتماد قائم رہے۔

 مولانا مدنی نے وزیر داخلہ سے شکایت کی کہ جمعیۃ علماء کی مقامی یونٹ کے ذریعہ حاصل کردہ رپورٹ کے مطابق مقامی پولیس کی ٹیم اقلیتی برادری میں خوف کی نفسیات پیدا کر رہی ہے۔ یہ سب دیکھ کر ملک میں ہر طرف اقلیتی برادری میں ناانصافی کا گہرا احساس پایا جاتا ہے۔انہوں نے وزیر داخلہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کھرگون تشدد کی سچائی کو سامنے لانے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں،نیز ان تمام لوگوں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے جنہوں نے جلوس کے دوران تشدد کو ہوا دی جس کی وجہ سے یہ پورا واقعہ ہوا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے امتیازی سلوک کا نوٹس لیتے ہوئے جائیدادوں کی مسماری کو فوری طور پر روکا جائے۔

 دوسری طرف جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی لگاتار گھرگون کے اعلیٰ افسران سے رابطے میں ہیں،نیز جمعیۃ علماء گھرگون کے ذمہ داران مفتی رفیق اور حافظ ادریس سے رپورٹ لے رہے ہیں اور ہر ممکن اقدم کے ذریعہ امن و امان کیلئے کوشاں ہیں۔


Share: